مُعبِّر میں کن کن آداب و شرائط کا پایا جانا ضروری ہے
The Required Qualities of an Interpreter
تعبیر بتانے والے (معبر) میں یہ خوبیاں ہونی چاہئیں:
امام محمد بن سیرینؒ کے مطابق معبر کو دین کا علم رکھنے والا ہونا چاہیے، لوگوں کے حالات کو اچھی طرح سمجھتا ہو، اللہ سے دعا کرتا رہے کہ اس کی زبان سے صرف اچھی بات نکلے، اور گناہوں و حرام کمائی سے دور رہے، تاکہ وہ اس فرمان کا مصداق بنے کہ 'علما پیغمبروں کے وارث ہیں۔'
امام ابراہیم کرمانیؒ کہتے ہیں کہ معبر کو خواب پوری توجہ سے سننا چاہیے اور سائل کے مذہب و دین کو بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ سائل سچ کہہ رہا ہے یا نہیں — کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے سچا خواب اسی کا ہوگا جو سب سے سچا ہو۔
حضرت ابن سیرینؒ کہتے ہیں کہ معبر کو خواب سنتے وقت باوضو ہونا چاہیے۔ اگر سائل معبر کا دشمن ہو اور دشمنی کی وجہ سے غلط تعبیر مانگے، تو معبر کو یہ بات لوگوں میں بیان نہیں کرنی چاہیے۔
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق معبر کو عقلمند، پرہیزگار، کم گو، علم والا اور گناہوں سے بچنے والا ہونا چاہیے۔ سوال سنتے وقت ہوشیار رہے، سائل کی حالت کو سمجھے، پھر اصولوں کے مطابق تعبیر دے — بغیر غور کیے اپنی طرف سے کبھی تعبیر نہ بتائے۔
حضرت ابن سیرینؒ، اتنے بڑے امام ہونے کے باوجود، جس خواب کو نہیں سمجھ پاتے تھے اس کی تعبیر ہرگز نہیں دیتے تھے۔
ابوحاتم اسمعیؒ کے مطابق ابن سیرینؒ فرماتے تھے کہ معبر کو سائل کی بات غور سے سمجھنی چاہیے — اگر کوئی غیر ضروری بات ہو تو اسے الگ کر دے اور اصل بات کی تعبیر کرے۔ اگر خواب بے ربط اور الجھا ہوا ہو تو تعبیر نہ دے۔ اور اگر تعبیر بری معلوم ہو تو وہ سائل کو نہ بتائے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کہتے ہیں کہ معبر کو قبرستان میں کسی کے خواب کی تعبیر نہیں دینی چاہیے۔
اسی لیے کبھی کبھار شیطان کسی پیغمبر کی شکل اختیار کر کے خواب دیکھنے والے کو کہتا ہے کہ 'میں تم سے بہت خوش ہوں، جو مانگنا ہے مانگ لو،' یا کسی اور سے کہتا ہے کہ 'میں نے تمہارے سب گناہ معاف کر دیے۔' اس طرح کی باتیں بنا کر وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
