دھونا
Washing
ابن سیرینؒ کے مطابق نہر، کاریز، حوض یا دریا کے پانی سے خود کو دھونا غم سے نجات کی علامت ہے۔ قیدی کے لیے یہ رہائی کی، مقروض کے لیے قرض سے آزادی کی، اور بیمار کے لیے شفا کی علامت ہے۔ ٹھنڈے یا گندے پانی سے دھونا توبہ کی علامت ہے۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھونے کی چار ممکنہ تعبیریں ہیں: توبہ، عافیت، قید سے رہائی، یا خوف سے امن۔ گرم پانی سے دھونا غم کی علامت ہے۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق ہاتھ منہ دھونے کی آٹھ ممکنہ تعبیریں ہیں: خواہش کا پورا ہونا، بیماری سے شفا، مال، حج، خوشی، امن، دین کی صفائی، یا ضرورت پوری ہونا۔
