قلعہ (چوبارہ) (Fortress
Turret
ابن سیرینؒ کے مطابق قلعہ بنانا دین کی بہتری کی، اور خراب کرنا دین کی تباہی کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق پکی اینٹ کا قلعہ دوزخ کی، اور کچی اینٹ یا مٹی کا قلعہ جنت کی علامت ہے۔ قلعے میں رہنا دین میں ثابت قدمی کی علامت ہے۔ بار بار قلعے میں آنا جانا دین میں کمزوری کی علامت ہے۔
