علم تعبیر کی فضیلت صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین کے اقوال سے
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والی سب سے پہلی نعمت یہ تھی کہ آپ نے خواب میں ایک مقرب فرشتہ دیکھا جس نے آپ کو خاتم الانبیاء ہونے کی خوشخبری دی۔
حضرت عروہ بن ہشامؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن کی آیت لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا میں 'بشارت' سے مراد نیک خواب ہے۔ چونکہ قرآن نے اسے بشارت کہا، اس سے خود بخود خواب کی تعبیر کے علم کی فضیلت بھی ثابت ہو جاتی ہے۔
حضرت ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ خواب کی تعبیر دوسرے علوم سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہ ایک نہایت نازک علم ہے جس کے اصول ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، کیونکہ لوگوں کے حالات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
