خواب تعبیر
متن کا سائز
100%

علم تعبیر کی فضیلت و تصدیق آیاتِ قرآنی سے

پہلی دلیل: جس چیز کو اللہ اپنے خاص انعامات میں شمار کرے، اس کی فضیلت میں کوئی شک نہیں رہتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے علمِ تعبیر کو حضرت یوسف علیہ السلام پر اپنے انعامات میں شمار کیا:

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ

یعنی: "اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اختیار دیا اور اسے خوابوں کی تعبیر کا علم سکھایا۔"

دوسری دلیل: معراج کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھا جسے اللہ نے خود سچ ثابت کیا:

لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ

یعنی: "اللہ نے اپنے رسول کا خواب سچ کر دکھایا۔"

چونکہ خواب ایک خاص نعمت ثابت ہوا، اس لیے خواب کی تعبیر کا علم بھی ایک بلند مرتبہ علم ہے، کیونکہ کسی بھی علم کی عظمت اس کے موضوع کی عظمت سے جانی جاتی ہے۔

تیسری دلیل: کسی بےگناہ کو جان بوجھ کر قتل کرنا سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے، جس کی سزا قرآن کے مطابق جہنم ہے، اور انبیاء گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔ مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب آیا:

اِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ

یعنی: "اے اسماعیل! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں"

تو حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام دونوں اس پر عمل کرنے کو تیار ہو گئے، کیونکہ خواب کی سچائی اتنی اہم تھی۔ اللہ نے فرمایا:

وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

یعنی: "اور ہم نے پکارا: اے ابراہیم! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔"