مقدمہ
شروع کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خوابوں کی تعبیر ایک نہایت اہم علم ہے، جس کے ذریعے آئندہ پیش آنے والے حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ (رواہ البخاری عن ابی ہریرہؓ)
یعنی: "نبوت میں سے صرف خوشخبریاں باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: خوشخبریوں سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: سچا خواب۔"
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آج مومنوں کے پاس مستقبل جاننے کا واحد ذریعہ سچے خواب ہی رہ گئے ہیں۔ جس طرح بادل بارش کی نشاندہی کرتے ہیں، اسی طرح سچے خواب آنے والے وقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
