دوسری فصل: خواب کی اقسام
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق خواب بنیادی طور پر دو قسم کا ہوتا ہے: ایک حقیقتِ حال بتانے والا، دوسرا انجام کی خبر دینے والا۔ ان سے چار ذیلی قسمیں نکلتی ہیں: حکم دینے والا، روکنے والا، ڈرانے والا، اور خوشخبری دینے والا خواب۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کے مطابق خواب تین قسم کے ہیں: اللہ کی طرف سے مومنوں کے لیے خوشخبری، شیطان کا وسوسہ، اور بےمعنی الجھے خیالات (اضغاثِ احلام)۔
امام جعفر صادقؓ کہتے ہیں کہ خواب تین طرح کا ہے: حکم، مثالی، اور الجھا ہوا۔ فسادی طبیعت والے، شراب پینے والے، ناقص غذا کھانے والے، اور نابالغ بچے — ان کے خواب اکثر بےمعنی ہوتے ہیں۔
امام ابن سیرینؒ کے مطابق خواب دو طرح کے ہیں: قابلِ اعتماد (حکم والا) اور بےمعنی (اضغاثِ احلام)۔ بےمعنی خواب بھی تین وجوہ سے آتا ہے: خواہش کے غلبے سے، دلی خیالات سے، یا شیطانی اثر سے — تینوں غیر معتبر ہیں۔
امام کرمانیؒ کے مطابق ایک خواب اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتا ہے، جو 'ملک الرؤیا' نامی فرشتہ لوحِ محفوظ سے دکھاتا ہے، تاکہ انسان نیکی کی طرف مائل ہو اور برائی سے بچے۔ خواب بھول جانا گناہ سمجھا جاتا ہے، اس پر توبہ کرنی چاہیے۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق خواب سچا یا جھوٹا ہو سکتا ہے۔ سچا خواب تین طرح کا ہے: خوشخبری، تنبیہ، یا الہام۔ جھوٹا خواب بھی تین طرح کا ہے: خیالی خواب (بیداری کی سوچ کا عکس)، بیماری کا خواب (جسمانی تکلیف سے)، اور شیطانی خواب (ناممکن چیزیں دکھانے والا) — ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔
ابن سیرینؒ کے مطابق خواب کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ بعض اوقات جو خواب میں دیکھا جائے وہی حقیقت میں پیش آ جاتا ہے، اور کند ذہن لوگ بھی خواب میں فصیح باتیں یا اشعار کہہ لیتے ہیں۔ جابر مغربیؒ کے مطابق کبھی خواب کی تعبیر خود دیکھنے والے پر نہیں بلکہ اس کے کسی رشتہ دار پر واقع ہوتی ہے — جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ابوجہل کو مسلمان ہوتے دیکھا، اور بعد میں ابوجہل کا بیٹا عکرمہؓ اسلام لایا۔
