بارہویں فصل: معبر کے لیے ضروری آداب و اصول
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق معبر کو دانا، پرہیزگار، عالم، کم گو اور نیک ہونا چاہیے۔ تعبیر دیتے وقت یہ معلوم کرے کہ سائل بادشاہ ہے یا عام آدمی، بزرگ ہے یا ناسمجھ، آزاد ہے یا غلام، غریب ہے یا امیر، مرد ہے یا عورت، پریشان ہے یا مطمئن، اور خواب کس موسم میں آیا۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر ہی تعبیر دے، اپنی طرف سے کچھ گھڑ کر نہ کہے۔
ابن سیرینؒ، اتنے بڑے امام ہونے کے باوجود، جس خواب کو نہ سمجھ پاتے اس کی تعبیر نہ دیتے۔ معبر کو غور سے سننا چاہیے، غیر متعلقہ باتیں الگ کر کے اصل نکات کی تعبیر دینی چاہیے، اور اگر خواب بےترتیب و الجھا ہوا ہو تو تعبیر ظاہر نہ کرے۔
امام کرمانیؒ کے مطابق خواب کی تین بنیادی چیزیں ہوتی ہیں: جنس، صفت، اور طبیعت۔ معبر کو درختوں اور پرندوں کی اقسام کا علم ہونا چاہیے — مثلاً اخروٹ کا درخت عام طور پر بخیل اور مشکل پسند شخص کی علامت ہے، جبکہ کھجور کا درخت (قرآن میں 'پاک درخت' کہا گیا) آسانی اور بھلائی کی علامت ہے۔ پرندے کا اڑنا سفر کی نشانی ہو سکتا ہے۔
خواب بیان کرنے والے کو سچائی سے کام لینا چاہیے، اور اگر کسی برے خواب سے خوفزدہ ہو تو آیت الکرسی تین بار پڑھ کر پناہ مانگے، پھر یہ دعا پڑھے: أَعُوذُ بِرَبِّ مُوسَىٰ وَإِبْرَاهِيمَ مِنْ شَرِّ رُؤْيَايَ الَّتِي رَأَيْتُهَا (میں موسیٰ اور ابراہیم کے رب کی پناہ مانگتا ہوں اس خواب کی برائی سے)، پھر دو رکعت نماز پڑھ کر صدقہ دے۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق شیطان خوابوں میں کسی بھی شکل میں آ سکتا ہے، سوائے اللہ، فرشتوں، پیغمبروں، اور آسمانی اجسام کی شکل کے — ورنہ وہ گمراہ کن باتیں بنا کر لوگوں کو بہکاتا۔
