خواب تعبیر
متن کا سائز
100%

دسویں فصل: ناسمجھ لوگوں سے تعبیر نہ پوچھنے کی وجہ

امام کرمانیؒ کے مطابق ناسمجھ لوگوں کو خواب نہیں بتانا چاہیے اور ان سے تعبیر بھی نہیں پوچھنی چاہیے، کیونکہ ان کا جواب غلط ہو سکتا ہے — لیکن خواب کی حقیقت خود فرشتہ بتاتا ہے جو کبھی غلطی نہیں کرتا۔ کسی ناسمجھ کی غلط بات سے حقیقی تعبیر باطل نہیں ہو جاتی۔ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے، جیسا کہ قرآن میں ہے: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (کہو: کیا علم والے اور بےعلم برابر ہو سکتے ہیں؟)۔

مصر کے بادشاہ نے جب خواب دیکھا تو اس کے درباریوں نے اسے 'الجھا ہوا خواب' کہہ کر رد کر دیا، مگر حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کی درست تعبیر بتائی — سات سالہ خوشحالی اور اس کے بعد سات سالہ قحط۔ اس سے ثابت ہوا کہ ناسمجھوں کی رائے حقیقی تعبیر کو غلط نہیں بنا سکتی۔