اذان
Call to Prayer
ابن سیرینؒ کے مطابق نیک شخص کا اذان سننا یا خود اذان دینا حج کرنے کی علامت ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ (اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو)۔ غیر معروف جگہ اذان دینا کسی ناپسندیدہ بات کی، اور فاسق شخص کے لیے یہ چوری میں پکڑے جانے کی علامت ہے۔
مینار سے اذان دینا لوگوں کو نیکی کی طرف بلانے کی علامت ہے۔ بستر پر لیٹے اذان دینا بیوی سے محبت کی علامت ہے۔ گھر میں اذان دینا مفلسی کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق بیوی کے ساتھ اذان دینا جلد موت کی علامت ہے۔ اذان میں کمی بیشی کرنا ظلم کرنے کی، اور بچے کا اذان دینا والدین کے جھوٹ بولنے کی علامت ہے۔ قید خانے میں اذان دینا رہائی کی، جبکہ کھیل کود میں اذان دینا تباہی کی علامت ہے۔ مینار پر اذان دینا عزت اور اقتدار کی علامت ہے۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق اذان کی بارہ ممکنہ تعبیریں ہیں: حج، ختنہ، حکومت، عزت، سرداری، سفر، موت، مفلسی، جاسوسی، منافقت، کفر، یا ہاتھ کٹنا — سیاق و سباق کے مطابق۔
