نفس اور روح کا بیان
An Account of the Self and the Soul
قرآن میں ہے: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا (اللہ روحوں کو موت کے وقت اور نیند کے دوران بھی قبض کرتا ہے، اور جس کی موت مقرر نہیں اسے واپس بھیج دیتا ہے)۔
نفس اور روح کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے۔ کچھ کہتے ہیں دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ عربی زبان میں نفس کے کئی معنی ہیں — جان، خون، پانی، وغیرہ — اور روح کے بھی کئی معنی ہیں جیسے جان، ہوا، وحی وغیرہ۔
کچھ حکماء کہتے ہیں کہ روح ایک لطیف جسم ہے جو خواب کے وقت باہر نکلتی ہے اور جو دیکھتی ہے وہ یاد رہ جاتا ہے، پھر واپس آ جاتی ہے۔ دوسرے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر روح واقعی جسم سے نکل جائے تو سانس رکنی چاہیے، جبکہ سوتے ہوئے شخص کی سانس چلتی رہتی ہے — اس لیے روح جسم ہی میں رہتی ہے۔
کچھ لوگ 'جان' اور 'روح' میں فرق کرتے ہیں: جان جسم سے سفر پر جاتی ہے اور دیکھی ہوئی چیزیں واپس آ کر بتاتی ہے، جبکہ روح ہمیشہ موجود رہتی ہے — جیسے سورج کا مادہ اور اس کی روشنی الگ الگ چیزیں ہیں۔
اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ روح اللہ کا ایک خاص معاملہ ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي (لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کا معاملہ ہے)۔ ہمارا عقیدہ اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر مبنی ہے۔
